۱پس ہر طرح کی بدخواہی اور سارے فریب اور رِیاکاری اور حسد اور ہر طرح کی بدگوئی کو دُور کرکے۔
۲نَوزاد بچّوں کی مانِند خالِص رُوحانی دُودھ کے مُشتاق رہو تاکہ اُس کے ذرِیعہ سے نِجات حاصِل کرنے کے لِئے بڑھتے جاؤ۔
۳اگر تُم نے خُداوند کے مہربان ہونا کا مزہ چکھّا ہے۔
۴اُس کے یعنی آدمِیوں کے ردّ کِئے ہُوئے پر خُدا کے چُنے ہُوئے اور قِیمتی زِندہ پتھّر کے پاس آکر۔
۵تُم بھی زِندہ پتھّروں کی طرح رُوحانی گھر بنتے جاتے ہو تاکہ کاہِنوں کا مُقدّس فِرقہ بن کر اَیسی رُوحانی قُربانیاں چڑھاؤ جو یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے خُدا کے نزدِیک مقبُول ہوتی ہیں۔
۶چُنانچہ کِتابِ مُقدّس میں آیا ہے کہ دیکھو، مَیں صِیُّون میں کونے کے سِرے کا چُنا ہُؤا اور قِیمتی پتھّر رکھتا ہُوں جو اُس پر اِیمان لائے گا ہرگِز شرمِندہ نہ ہوگا۔
۷پس تُم اِیمان لانے والوں کے لِئے تو وہ قِیمتی ہے مگر اِیمان نہ لانے والوں کے لِئے جِس پتھّر کو مِعماروں نے ردّ کِیا وُہی کونے کے سِرے کا پتھّر ہوگیا۔
۸اور ٹھیس لگنے کا پتھّر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان ہُؤا کیونکہ وہ نافرمان ہوکر کلام سے ٹھوکر کھاتے ہیں اور اِسی کے لِئے مُقرّر بھی ہُوئے تھے۔
۹لیکِن تُم ایک برگُزیدہ نسل ۔ شاہی کاہِنوں کا فِرقہ ۔ مُقدّس قَوم اور اَیسی اُمّت ہو جو خُدا کی خاص مِلکیّت ہے تاکہ اُس کی خُوبیاں ظاہِر کرو جِس نے تُمہیں تارِیکی سے اپنی عجِیب روشنی میں بُلایا ہے۔
۱۰پہلے تُم کوئی اُمّت نہ تھے مگر اب خُدا کی اُمّت ہو۔ تُم پر رحمت نہ ہُوئی تھی مگر اب تُم پر رحمت ہُوئی۔
۱۱اَے پیارو! مَیں تُمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ تُم اپنے آپ کو پردیسی اور مُسافِر جان کر اُن جِسمانی خواہِشوں سے پرہیز کرو جو رُوح سے لڑائی رکھتی ہیں۔
۱۲اور غَیرقَوموں میں اپنا چال چلن نیک رکھّو تاکہ جِن باتوں میں وہ تُمہیں بدکار جان کر تُمہاری بدگوئی کرتے ہیں تُمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر اُنہی کے سبب سے مُلاحظہ کے دِن خُدا کی تمجِید کریں۔
۱۳خُداوند کی خاطِر اِنسان کے ہر ایک اِنتظام کے تابِع رہو۔ بادشاہ کے اِس لِئے کہ وہ سب سے بزُرُگ ہے۔
۱۴اور حاکِموں کے اِس لِئے کہ وہ بدکاروں کو سزا اور نیکوکاروں کی تعرِیف کے لِئے اُس کے بھیجے ہُوئے ہیں۔
۱۵کیونکہ خُدا کی یہ مرضی ہے کہ تُم نیکی کرکے نادان آدمِیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔
۱۶اور اپنے آپ کو آزاد جانو مگر اِس آزادی کو بدی کا پردہ نہ بناؤ بلکہ اپنے آپ کو خُدا کے بندے جانو۔
۱۷سب کی عِزّت کرو۔ برادری سے محبّت رکھّو۔ خُدا سے ڈرو۔ بادشاہ کی عِزّت کرو۔
۱۸اَے نوکرو! بڑے خَوف سے اپنے مالِکوں کے تابِع رہو۔ نہ صِرف نیکوں اور حلِیموں ہی کے بلکہ بدمِزاجوں کے بھی۔
۱۹کیونکہ اگر کوئی خُدا کے خیال سے بے اِنصافی کے باعِث دُکھ اُٹھا کر تکلِیفوں کی برداشت کرے تو یہ پسندیدہ ہے۔
۲۰اِس لِئے کہ اگر تُم نے گُناہ کرکے مُکّے کھائے اور صبر کِیا تو کَونسا فخر ہے؟ ہاں اگر نیکی کرکے دُکھ پاتے اور صبر کرتے ہو تو یہ خُدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔
۲۱اور تُم اِسی کے لِئے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسِیح بھی تُمہارے واسطے دُکھ اُٹھا کر تُمہیں ایک نمُونہ دے گیا ہے تاکہ اُس کے نقشِ قدم پر چلو۔
۲۲نہ اُس نے گُناہ کِیا اور نہ اُس کے مُنہ سے کوئی مکر کی بات نِکلی۔
۲۳نہ وہ گالیاں کھاکر گالی دیتا تھا اور نہ دُکھ پاکر کِسی کو دھمکاتا تھا بلکہ اپنے آپ کو سچّے اِنصاف کرنے والے کے سُپُرد کرتا تھا۔
۲۴وہ آپ ہمارے گُناہوں کو اپنے بدن پر لِئے ہُوئے صلِیب پر چڑھ گیا تاکہ ہم گُناہوں کے اِعتبار سے مرکر راستبازی کے اِعتبار سے جِئیں اور اُسی کے مار کھانے سے تُم نے شِفا پائی۔
۲۵کیونکہ پہلے تُم بھیڑوں کی طرح بھٹکتے پھِرتے تھے مگر اب اپنی رُوحوں کے گلّہ بان اور نِگہبان کے پاس پھِر آ گئے ہو۔