۱اور جِس طرح اُس اُمّت میں جھُوٹے نبی بھی تھے اُسی طرح تُم میں بھی جھُوٹے اُستاد ہونگے جو پوشیدہ طَور پر ہلاک کرنے والی بِدعتیں نِکالیں گے اور اُس مالِک کا اِنکار کریں گے جِس نے اُنہیں مول لِیا تھا اور اپنے آپ کو جلد ہلاکت میں ڈالیں گے۔
۲اور بہُتیرے اُن کی شہوت پرستی کی پیَروی کریں گے جِن کے سبب سے راہِ حق کی بدنامی ہوگی۔
۳اور وہ لالچ سے باتیں بنا کر تُم کو اپنے نفع کا سبب ٹھہرائیں گے اور جو قدِیم سے اُن کی سزا کا حُکم ہو چُکا ہے اُس کے آنے میں کُچھ دیر نہیں اور اُن کی ہلاکت سوتی نہیں۔
۴کیونکہ جب خُدا نے گُناہ کرنے والے فرِشتوں کو نہ چھوڑا بلکہ جہنّم میں بھیج کر تارِیک غاروں میں ڈال دِیا تاکہ عدالت کے دِن تک حراست میں رہیں۔
۵اور نہ پہلی دُنیا کو چھوڑا بلکہ بے دِین دُنیا پر طُوفان بھیج کر راستبازی کی منادی کرنے والےنُوح کو مع اَور سات آدمِیوں کو بچا لِیا۔
۶اور سدُوم اور عمُوراہ کے شہروں کو خاکِ سِیاہ کر دِیا اور اُنہیں ہلاکت کی سزا دی اور آیندہ زمانہ کے بے دِینوں کے لِئے جایِ عِبرت بنا دِیا۔
۷اور راستباز لُوط کو جو بے دِینوں کے ناپاک چال چلن سے دِق تھا رِہائی بخشی۔
۸(چُنانچہ وہ راستباز اُن میں رہ کر اور اُن کے بے شرع کاموں کو دیکھ کر گویا ہر روز اپنے سچّے دِل کو شِکنجہ میں کھِنچتا تھا)۔
۹تو خُداوند دِینداروں کو آزمایش سے نِکال لیتا اور بدکاروں کو عدالت کے دِن تک سزا میں رکھنا جانتا ہے۔
۱۰خصوصاً اُن کو جو ناپاک خواہِشوں سے جِسم کی پَیروی کرتے ہیں اور حُکُومت کو ناچِیز جانتے ہیں۔ وہ گُستاخ اور خودرائی ہیں اور عِزّت داروں پر لعن طعن کرنے سے نہیں ڈرتے۔
۱۱باوُجُود یکہ فرِشتے جو طاقت اور قُدرت میں اُن سے بڑے ہیں خُداوند کے سامنے لعن طعن کے ساتھ نالِش نہیں کرتے۔
۱۲لیکِن یہ لوگ بے عقل جانوروں کی مانِند ہیں جو پکڑنے جانے اور ہلاک ہونے کے لِئے حَیوانِ مُطلق پَیدا ہُوئے ہیں۔ جِن باتوں سے ناواقِف ہیں اُن کے بارے میں اَوروں پر لعن طعن کرتے ہیں۔ اپنی خرابی میں خُود خراب کِئے جائیں گے۔
۱۳دُوسروں کے بُرا کرنے کے بدلے اِن ہی کا بُرا ہوگا۔ اُن کو دِن دِہاڑے عیاشی کرنے میں مَزا آتا ہے۔ یہ داغ اور عَیب ہیں۔ جب تُمہارے ساتھ کھاتے پِیتے ہیں تو اپنی طرف سے محبّت کی ضیافت کرکے عیش و عِشرت کرتے ہیں۔
۱۴اُن کی آنکھیں جِن میں زناکار عورتیں بسی ہوئی ہیں گُناہ سے رُک نہیں سکتیں وہ بے قیام دِلوں کو پھَنساتے ہیں۔ اُن کا دِل لالچ کا مُشتاق ہے۔ وہ لعنت کی اُولاد ہیں۔
۱۵وہ سیدھی راہ چھوڑ کر گُمراہ ہو گئے ہیں اور بعُور کے بیٹے بلعام کی راہ پر ہو لِئے ہیں جِس نے ناراستی کی مزدُوری کو عِزیز جانا۔
۱۶مگر اپنے قصُور پر یہ ملامت اُٹھائی کہ ایک بے زبان گدھی نے آدمِی کی طرح بول کر اُس نبی کو دِیوانگی سے باز رکھّا۔
۱۷وہ اندھے کُوئیں ہیں اور اَیسے کہُر جِسے آندھی اُڑاتی ہے۔ اُن کے لِئے بے حد تارِیکی دھری ہے۔
۱۸وہ گھمنڈ کی بیہُوداہ باتیں بک بک کر شہوت پرستی کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو جِسمانی خواہِشوں میں پھنساتے ہیں جو گُمراہوں میں سے نِکل ہی رہے ہیں۔
۱۹وہ اُن سے تو آزادی کا وعدہ کرتے ہیں اور آپ خرابی کے غُلام بنے ہُوئے ہیں کیونکہ جو شخص جِس سے مغلُوب ہے وہ اُس کا غلام ہے۔
۲۰اور جب وہ خُداوند اور یِسُوع مسِیح کی پہچان کے وسِیلہ سے دُنیا کی آلُودگی سے چھُوٹ کر پھِر اُن میں پھنسے اور اُن سے مغلُوب ہُوئے تو اُن کا پِچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہُوا۔
۲۱کیونکہ راستبازی کی راہ کا نہ جاننا اُن کے لِئے اِس سے بہتر ہوتا کہ اُسے جان کر اُس پاک حُکم سے پھِر جاتے جو اُنہیں سونپا گیا تھا۔
۲۲اُن پر یہ سچّی مِثل صادِق آتی ہے کہ کُتّا اپنی قَے کی طرف رُجُوع کرتا ہے اور نہلائی ہُوئی سُوأرنی دلدل میں لوٹنے کی طرف۔