عِبرانیوں ۱

۱ اگلے زمانہ میں خُدا نے باپ دادا سے حِصّہ بہ حِصّہ اور طرح بہ طرح نبِیوں کی معرفت کلام کرکے۔
۲ اِس زمانہ کے آخِر میں ہم سے بیٹے کی معرفت کلام کِیا جِسے اُس نے سب چِیزوں کا وارِث ٹھہرایا اور جِس کے وسِیلہ سے اُس نے عالم بھی پَیدا کِئے۔
۳ وہ اُس کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہوکر سب چِیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے۔ وہ گُناہوں کو دھو کر عالمِ بالا پر کِبریا کی دہنی طرف جا بَیٹھا۔
۴ اور فرِشتوں سے اِسی قدر بُزُرگ ہو گیا جِس قدر اُس نے مِیراث میں اُن سے افضل نام پایا۔
۵ کیونکہ فرِشتوں میں سے اُس نے کب کِسی سے کہا کہ تُو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مُجھ سے پَیدا ہُؤا؟ اور پھِر یہ کہ مَیں اُس کا باپ ہُوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا؟
۶ اور جب پہلوٹھے کو دُنیا میں پھِر لاتا ہے تو کہتا ہے کہ خُدا کے سب فرِشتے اُسے سِجدہ کریں۔
۷ اور فرِشتوں کی بابت یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے فرِشتوں کو ہوائیں اور اپنے خادِموں کو آگ کے شَعلے بناتا ہے۔
۸ مگر بیٹے کی بابت کہتا ہے کہ اَے خُدا تیرا تخت ابدُالآباد رہے گا اور تیری بادشاہی کا عصا راستی کا عصا ہے۔
۹ تُو نے راستبازی سے محبّت اور بدکاری سے عداوت رکھّی۔ اِسی سبب سے خُدا یعنی تیرے خُدا نے خُوشی کے تیل سے تیرے ساتھِیوں کی بہ نِسبت تُجھے زِیادہ مسح کِیا۔
۱۰ اور یہ کہ اَے خُداوند! تُو نے اِبتدا میں زِمین کی نیو ڈالی اور آسمان تیری ہاتھ کی کارِیگری ہیں۔
۱۱ وہ نِیست ہو جائیں گے مگر تُو باقی رہے گا اور وہ سب پوشاک کی مانِند پُرانے ہو جائیں گے۔
۱۲ تُو اُنہیں چادر کی طرح لپیٹے گا اور وہ پوشاک کی طرح بدل جائیں گے مگر تُو وُہی ہے اور تیرے برس ختم نہ ہونگے۔
۱۳ لیکِن اُس نے فرِشتوں میں سے کِسی کے بارے میں کب کہا کہ تُو میری دہنی طرف بَیٹھ جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تلے کی چَوکی نہ کر دُوں؟
۱۴ کیا وہ سب خِدمتگُذار رُوحیں نہیں جو نجات کی مِیراث پانے والوں کی خاطِر خِدمت کو بھیجی جاتی ہیں؟
عِبرانیوں ۲
PDF