۶اُس نے اگرچہ خُدا کی صُورت پر تھا خُدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چِیز نہ سمجھا۔
۷بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دِیا اور خادِم کی صُورت اِختیار کی اور اِنسانوں کے مُشابہ ہوگیا۔
۸اور اِنسانی شکل میں ظاہِر ہوکر اپنے آپ کو پس کر دِیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ مَوت بلکہ صلِیبی مَوت گوارا کی۔
۹اِسی واسطے خُدا نے بھی اُسے بہُت سر بُلند کِیا اور اُسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلٰی ہے۔
۱۰تاکہ یِسُوع کے نام پر ہر ایک گھُٹنا ٹِکے۔ خواہ آسمانِیوں کا ہو خواہ زمِینیوں کا۔ خواہ اُن کا جو زمِین کے نِیچے ہیں۔
۱۱اور خُدا باپ کے جلال کے لِئے ہر ایک زبان اِقرار کرے کہ یِسُوع مسِیح خُداوند ہے۔
۱۲پس اَے میرے عزِیزو! جِس طرح تُم ہمیشہ سے فرمانبرداری کرتے آئے ہو اُسی طرح اب بھی نہ صِرف میری حاضری میں بلکہ اِس سے بہُت زِیادہ میری غَیرحاضری میں ڈرتے اور کانپتے ہُوئے اپنی نجات کا کام کِئے جاؤ۔
۱۳کیونکہ جو تُم میں نِیّت اور عمل دونوں کو اپنے نیک اِرادہ کو انجام دینے کے لِئے پَیدا کرتا ہے وہ خُدا ہے۔
۱۵تاکہ تُم بے عَیب اور بھولے ہوکر ٹیڑھے اور کجرَو لوگوں میں خُدا کے بے نقص فرزند بنے رہو (جِن کے درمِیان تُم دُنیا میں چراغوں کی طرح دِکھائی دیتے ہو۔
۱۶اور زِندگی کا کلام پیش کرتے ہو) تاکہ مسِیح کے دِن مُجھے فخر ہو کہ نہ میری دَوڑ دھُوپ بے فائِدہ ہُوئی نہ میری محنت اکارت گئی۔
۱۷اور اگر مُجھے تُمہارے اِیمان کی قُربانی اور خِدمت کے ساتھ اپنا خُون بھی بہانا پڑے تَو بھی خُوش ہُوں اور تُم سب کے ساتھ خُوشی کرتا ہُوں۔
۱۸تُم بھی اِسی طرح خُوش ہو اور میرے ساتھ خُوشی کرو۔
۱۹مُجھے خُداوند یِسُوع میں اُمّید ہے کہ تِیمُتھِیُس کو تُمہارے پاس جلد بھیجُوں گا تاکہ تُمہارا احوال دریافت کرکے میری بھی خاطِر جمع ہو۔
۲۰کیونکہ کوئی اَیسا ہم خیال میرے پاس نہیں جو صاف دِلی سے تُمہارے لِئے فِکرمند ہو۔
۲۱سب اپنی اپنی باتوں کی فِکر میں ہیں نہ کہ یِسُوع مسِیح کی۔
۲۲لیکن تُم اُس کی پُختگی سے واقِف ہو کہ جَیسے بیٹا باپ کی خِدمت کرتا ہے اَیسے ہی اُس نے میرے ساتھ خُوشخبری پھَیلانے میں خِدمت کی۔
۲۳پس مَیں اُمّید کرتا ہُوں کہ جب اپنے حال کا انجام معلُوم کر لُوں گا تو اُسے فوراً بھیج دُوں گا۔
۲۴اور مُجھے خُداوند پر بھروسا ہے کہ مَیں آپ بھی جلد آؤں گا۔
۲۵لیکن مَیں نے اِپفُردِتُس کو تُمہارے پاس بھیجنا ضرُور سمجھا۔ وہ میرا بھائی اور ہم خِدمت اور ہم سِپاہ اور تُمہارا قاصِد اور میری حاجت رفع کرنے کے لِئے خادِم ہے۔
۲۶کیونکہ وہ تُم سب کو بہُت مُشتاق تھا اور اِس واسطے بےقرار رہتا تھا کہ تُم نے اُس کی بِیماری کا حال سُنا تھا۔
۲۷بیشک وہ بِیماری سے مرنے کو تھا مگر خُدا نے اُس پر رحم کِیا اور فقط اُس ہی پر نہیں بلکہ مُجھ پر بھی تاکہ مُجھے غم پر غم نہ ہو۔
۲۸اِس لِئے مُجھے اُس کے بھیجنے کا اَور بھی زِیادہ خیال ہُؤا کہ تُم بھی اُس کی مُلاقات سے پھِر خُوش ہو جاؤ اور میرا بھی غم گھٹ جائے۔
۲۹پس تُم اُس سے خُداوند میں کمال خُوشی کے ساتھ مِلنا اور اَیسے شخصوں کی عِزّت کِیا کرو۔
۳۰اِس لِئے کہ وہ مسِیح کے کام کی خاطِر مرنے کے قرِیب ہو گیا تھا اور اُس نے جان لگا دی تاکہ جو کمی تُمہاری طرف سے میری خِدمت میں ہُوئی اُسے پُورا کرے۔